کراچی کے قدیم گوٹھ ایک تاثر
کراچی کے گردونواح میں واقع گوٹھوں کے متعلق سن تو کافی عرصے سے رہے تھے لیکن وہاں جانے کا اتفاق کبھی نہ ہوسکا تھا یونائٹڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جب وہاں جانا ہوا تو ان گوٹھوں میں سول سوسائٹی کا اچھا کام وہاں نظر آیا کراچی ملیر سے متصل گوٹھوں میں موجود سول سوسائٹی کی سب سے اہم خوبی پائداری ہے وہاں بیرونی این جی اوز کا شور شرابہ کم اور مقامی لوگوں کی جانب سے اپنی برادری کیلئے کیئے گئے اقدامات زیادہ نظر آتے ہیں جن میں کمیونٹی سینٹرزاور اسکولوں کاقیام نمایاں ہے مقامی سطح پر کراچی رورل نیٹ ورک (کرن) جسے" ایس پی او" اور "ہینڈز" نے سپورٹ کیا ہے کی لوگوں میں بھرپور پزیرائی نظر آئی اسی طرح سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور ہاشم خاصخیلی ویلفئر سوسایئٹی کا بھرپور رول نظر آیا میں جب ملیر کے مراد میمن گوٹھ گیا تو وہاں پر مجھے دیہی زندگی عروج پر نظر آئی وہ سادگی نظر آئی جس کی تمنا کراچی میں ہم کرتے ہیں خواتین کھیتی باڑی میں مردوں کا ہاتھ بھی بٹاتی ہیں اور ان کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی بھی ہے ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا رواج ابھی تک زندہ ہے وہاں ایک قریبی گوٹھ کا لڑکا نورمحمد بلوچ حال ہی میں مجسٹریٹ کے امتحان میں کامیاب ہوا تھا جس پر مقامی باشندے بہت خوش تھے اور وہ سب اپنے لیئے اعزاز سمجھ رہے تھے اور اس کی کامیابی کو ذاتی اور علاقے کی کامیابی سمجھ رہے تھے اسی طرح جب مقامی خواتین کے ساتھ جب نشست ہوئی تو اندازہ ہواکہ گوٹھ میں رہنے کے باوجود ان میں بھرپور سیاسی شعور پایا جاتا ہے خواتین کی اکثریت کے پاس شناختی کارڈ موجود تھے خواتین کی اکثریت ووٹ بھی کاسٹ کرتی ہے اور ووٹ اپنی مرضی سے دیتی ہے کافی خواتین خوش تھیں کہ وہاں شہید ذوالفقارعلی بھٹو گورنمنٹ لاء کالج کا افتتاح بھی ہوچکا ہے اور کلاسز کابھی آغاز ہوچکا ہے ان کی پرانی خواہش پوری ہوگئی تھی کہ اب ان کی بچیاں باآسانی وکیل بن سکتی ہیں ایک خاتون نے بتایا کہ 1990 میں میری خواہش تھی کہ میں وکیل بنوں لیکن غربت اور لاء کالج دور ہونے کی وجہ سے یہ خواہش دل میں ہی رہ گئی تھی لیکن اس کی بیٹی نزدیکی کالج سے تعلیم حاصل کرکے اس کی خواہش ضرور پوری کرے گی خواتین نے کہا اب ہم حکومت سے یونیورسٹی کا مطالبہ بھی کررہی ہیں خواتین نے بتایا کہ ان کو بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت کا پتہ ہے جس کی وجہ سے بچوں کو بروقت پولیو کے قطرے اور دیگر امراض کے ٹیکے لگائے جانے کی وجہ سے ملیر کے مقامی گوٹھوں میں پولیو کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے خواتین کا احترام کیا جاتا ہے مہمان کی آؤبھگت کی روایت موجود ہے اور ان کیلئے مقامی باشندے بھرپور مہمان نوازی کرتے ہیں اور مہمانوں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں مہمان نوازی کے یہی مناظر مجھے اور میرے ساتھ دوستوں کو ہاشم خاصخیلی گوٹھ میں بھی نظر آئے میرے لیئے ملیر کے نواحی گوٹھوں میں جاکر لوگوں سے ملنا ان کے ساتھ قانون کی آگہی کے حوالے سے نشستیں کرنا ان کی سادہ باتوں کو سننا ایک بہترین تجربہ تھا یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ تمام لوگ عدالتی نظام سے خفا تھے جس کی بے شمار وجوہات ہیں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپورہشن کا ملازم ہے ان کی پٹیشن پرہائی کورٹ فیصلہ نہیں کرپارہی حالانکہ سپریم کورٹ نے ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اسی دوران ایک اور خاتون نے سادگی سے سمجھایا کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں لکھا کہ وہ مہینہ کونسے سال کا ہوگا ہوسکتا ہے وہ ایک مہینہ 2025 کا ہو، بہرحال غریب کا عدلیہ سے اتنا ہی تعلق ہے غریب عدلیہ کی اتنی ہی عزت کرتا ہے جتنی عدلیہ نے غریب کو دے رکھی ہے غریبوں کے دل میں بھی عدلیہ کے لیئے اتنا ہی درد ہے جتنا عدلیہ غریب کیلئے محسوس کرتی ہے میرے ساتھ میرے دوست شعیب صفدر گھمن، زوہیب آرایئں اور شفقت بھی تھے جنہوں نے وہاں منعقدہ پروگرامات میں میرا بھرپور ساتھ دیا کراچی کے قدیم گوٹھ ایک قیمتی اثاثہ ہیں
No comments:
Post a Comment