Sunday, January 13, 2013


غریب عوام اور عدلیہ کراچی کے نواحی علاقوں میں یونایٹڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام کی جانب سے کراچی کے نواحی علاقوں میں تقریباً 30 لیگل ایڈ کلینک لگائے گئے جہاں کمیونٹی کی سطح پر عوام الناس کو نہ صرف مفت قانونی مشورے دیئے گئے بلکہ ان کو مفت قانونی امداد کی پیشکش بھی کی گئی اس دوران مجھے تقریباً زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا وہیں عوام کی وکلاء اور عدلیہ کی متعلق رائے جاننے کا بھی موقع ملا جوکہ ایک دلچسپ تجربہ تھا یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ رائے اتنی اچھی نہ تھی لیکن ایسے شکوے تھے جو اپنوں ہی سے ہوتے ہیں ایک طالبعلم نے بتایا کہ "اس کے گھر میں ڈاکو داخل ہوئے اور ان کو یرغمال بنا کر لوٹ مار شروع کردی لوٹ مار کے دوران ایک ڈاکو نے فریج کا دروازہ کھولا اور گلاس میں پانی ڈال کر پیا اسی دوران ڈاکو اپنے ساتھ لائے ہوئے فروٹ بھی کھاتے رہے اور سکون سے لوٹ مار کرکے فرارہوگئے پولیس کو اطلاع دی اور جب وہ وقوعہ دیکھنے آئے تو میں نے ان کو بتایاکہ ڈاکو نے سامنےرکھے فریج کا دروازہ کھول کرگلاس میں پانی پیا ہے وہاں ان کی انگلیوں کے نشانات موجود ہوں گے جس پر پولیس والے مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے میں نے ابھی ابھی ابن صفی کا ناول پڑھ لیا ہو اور یا ان کو کوئی گھسا پٹا لطیفہ سنادیا ہو جس کے بعد انہوں نے لاپروائی سے فرج ک دروازہ کھولا جس سے انگلیوں کے نشانات ضائع ہوگئے اسی دوران انہوں نے گلاس کو بھی لاپروائی سے اٹھا کر اس پر موجود انگلیوں کے نشانات ضائع کرکے گلاس کا یوں مشاہدہ کرنے لگے جیسے ڈاکو ڈاکہ مارنے کے بعد گلاس میں چھپے بیٹھے ہوں اسی دوران جائے وقوعہ پر موجود ڈاکوؤں کے کھائے ہوئے فروٹ کے چھلکے اور ایک تھیلی میں سیب بھی موجود تھے جسے پولیس والے ساتھ لے گئے جب ہم تھانے لے گئے تو پولیس والے اس اہم شہادت یعنی سیب کو کھارہے تھے یہ دیکھ کر ہی ہم سمجھ گئے کہ اب ہمارا لوٹا ہوا مال ہمیشہ کیلئے لٹ گیا ہے" اس پر اب مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں سمجھتا اسی طرح ہرجگہ عدالتوں کی سیڑھیوں کے چرچے سنائی دیئے لوگ انصاف حاصل کرنے کیلئے عدالتی سیڑھیوں کے شکوے کرتے نظرآئے بےشمار خامیوں کے باوجود بلدیاتی نظام سے منسلک مصالحتی کمیٹیوں کے بارے میں عوام نے نہ صرف مثبت رائے کا اظہار کیا بلکہ حقیقت سے بھی قریب تر قرار دیا کیونکہ عوام کی رسائی منتخب بلدیاتی نمائندوں تک باآسانی ہوتی ہے کمیونٹی کی سطح پر مراد میمن گوٹھ ملیر کی خواتین نے بتایا کہ ان کیلئے عدالت میں جانا کافی مشکل ہے کیونکہ آج کل نادرا کی جانب سے اکثر خواتین کوسول عدالت میں کیس داخل کرنے جانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کو پریشانی ہوتی ہے جس طرح عوام کا پولیس کے متعلق ذہن بن گیا ہے اسی طرح عدلیہ سے متعلق بھی ایک سوچ ہرجگہ پیدا ہوگئی ہے وہ عدم اعتماد کی نہیں وہ سوچ عدم تعاون کی ہے وہ سوچ لاعلمی کی ہے عوام نہیں جانتے کہ ان کو انصاف کس طرح ملے گا اسی طرح عوام اور عدلیہ کے درمیان فاصلے اس لیئے موجود ہیں کہ عدلیہ کافی سارے معاملات میں لکیر کی فقیر بنی ہوئی ہے ماتحت عدلیہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کتراتی ہے ماتحت عدلیہ کسی تھانے سے غیرقانونی حراست تو ختم کرادیتی ہے لیکن پولیس افسران کے خلاف قانونی کاروائی کرنا مشکل ہوجاتا ہے صرف ایس ایچ او کو ڈانٹ کر ہی گزارا کرلیا جاتا ہے عدالت ایف آئی آر درج کرنے کیلئے مدعی کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم تو جاری کردیتی ہے لیکن ایف آئی آر جھوٹی ہونے کی صورت میں مدعی کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی فیملی مقدمات میں بھی ججز اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کافی گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں حالانکہ جج کو دلیر ہونا چاہیئے بروقت انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خواتین کی اکثریت اپنے مقدمات ادھورے ہی چھوڑدیتی ہیں جوکہ بعد ازاں عدم پیروی پر خارج ہوجاتے ہیں اسی طرح خواتین کی جانب سے فیملی مقدمات میں بار بار عدالتی نوٹسز جاری کرنے کے عمل کو غیر حقیقت پسندی پر مشتمل عمل قرار دیا کیونکہ یہ بھی رواج ہے کہ مخالف پارٹی مقدمے کو عدالتی عملے کے ساتھ مل کر دیکھتی رہتی ہے اور بار بار کے عدالتی نوٹسز کے چھ مہینے کے بعد جب پبلیکیشن بھی ہوجاتی ہے تو اگلی تاریخ پر مخالف پارٹی پیش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین کے کافی اخراجات ہوجاتے ہیں خواتین کا مطالبہ تھا کہ فیملی تناذعات میں بھی بار بار مخالف فریق کو نوٹسز جاری کرکے قیمتی وقت ضایع کرنے کی بجائے اگر پبلیکیشن پیسٹنگ اور بزریعہ ڈاک تمام نوٹسز ایک بار ہی جاری کردیئے جایئں تو مقدمات تیزی سے نمٹ سکتے ہیں کیونکہ مقامی خواتین مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں ہی مایوس ہوجاتی ہیں خواتین نے تنازعات کے حل کیلئے متبادل عدالتی حل کو کافی پسند کیا اور اس پر تعاون کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طریقہ کار کو اگر بھرپور طریقے سے رائج کیا جائے تو اس کے بھرپور اثرات نظر آئیں گے عدلیہ سے بے پناہ شکایات کے باوجود عدالتوں پر عوام کا اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ عوام عدالتوں سے نہیں بلکہ عدالتی نظام سے تنگ ہیں اور نظام سے منسلک معمولی نوعیت کی شکایات بھی حل کرنے میں وہ تمام افلاطون ناکام ثابت ہوئے ہیں جو ہرسال جوڈیشل پالیسی بنانے کیلئے اسلام آباد میں جمع ہوتے ہیں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے عدلیہ کو فوری طور پر ماتحت عدلیہ میں کم ازکم فیملی مقدمات پر تو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے

No comments:

Post a Comment