Sunday, January 13, 2013


اہلیان سندھ کو خوشخبری اہلیان سندھ کو خوشخبری ہو کہ مجسٹرٰیٹ کی پچاس لاکھ روپے سے زیادہ مالیت والی سیٹوں پر میرٹ کی بنیاد پر 45 امیدواروں کو منتخب کرلیا گیا ہے اس سے پہلے بھی ایک بیج میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا جا چکا ہے اس طرح سندھ کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے میرٹ پر تقرریاں کرکے اپنا وعدہ پورا کردیا ہےایسے وکلاء مجسٹریٹ بنے جو کہ خواب میں بھی رشوت اور سفارش کا سوچ نہیں سکتے تھے ماضی میں مجسٹریٹ کی سیٹوں پر کروڑوں روپے کما کر پیشکار اور اسٹینو ٹائپ افراد کو ان سیٹوں پر لگایا جاتا رہا ہے جو کہ سندھ کی ماتحت عدلیہ کیلئے آج بھی مستقل ناسور بنے ہوئے ہیں ایسے ناسوروں کے خلاف کاروائی ممکن بھی نہیں کیونکہ عدلیہ آزاد ضرور ہوئی ہے لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ رشوت خور جج کے خلاف کاروائی بھی کرنی ہوگی کیونکہ ماضی میں رشوت دے کر بھرتی ہونے والے ناسوروں کے ہاتھ افتخار چوہدری سے بھی زیادہ مضبوط ہیں آپ آزما کر دیکھ لیں سندھ کے کسی رشوت خورپیشکار اسٹینو ٹائپ ناسورجج کے خلاف کتنی ہی مضبوط شواہد کے ساتھ درخواست متعلقہ ادارے ایم آئی ٹی کو دیکر تو دیکھیں کسی قسم کی کاروائی تو دور کی بات اگر "بار" جیسا ڈنڈاپیر موجود نہ ہو تو وکیل صاحب "اندر" بھی ہوسکتے ہیں ویسے سندھ کی ایم آئی ٹی کو بھی پنجاب سے سبق سیکھنا چاہیئے کیونکہ جب کورٹ اسٹاف اور ججز کی تنخواہ پنجاب کے ججز کے برابر کرنے کیلئے پنجاب سے سبق سیکھا جا سکتا ہے تو احتساب کیلئے بھی پنجاب کی ایم آئی ٹی سےہی سے سبق سیکھ لیں کہ کس طرح رشوت لینے والے ججز عبرت کا نشان بن جاتے ہیں سندھ کی ماتحت عدالتوں میں میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کے بعد کیا ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ رشوت خور ججز کے خلاف کاروائی بھی تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگی کیونکہ گنتی کے چند ناسور ججز جن کو سب جانتے ہیں ان اکثریتی ججز کیلئے بھی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں جن کا دامن رشوت سے پاک ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ سندھ کی عدلیہ میں ایسے ججز بھی موجود ہیں جو میرٹ کے معاملے میں کسی قسم کی سودے بازی نہیں کرتے اور بعض اوقات بڑی سے بڑی سفارش اور دباؤ کو خاطر میں نہ لاکر اپنی اور اپنے پورے خاندان کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں ایسے لوگ بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں

No comments:

Post a Comment