Sunday, January 13, 2013


پاکستان کے مایہ ناز صحافیوں کو سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوانوں کے سامنے وضاحتیں پیش کرنا پڑیں زندگی کے ہر شعبے سوائے عدلیہ کے سوشل میڈیا نے اپنا رول ادا کیا ہے یہ ایک ایسا فورم بن چکا ہے ہے جہاں سفارش اور دباؤ جیسے ہتھکنڈے ناکام ہوجاتے ہیں لیکن عدلیہ کیوں نہیں اس کی اہم وجہ نوجوانوں کا قوانین سے لاعلم ہونا ہے نوجوان وکلاء کی زمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے زریعے حقائق سامنے لایئں کہ کس طرح اکیسویں صدی میں بھی تفتیشی عمل میں بھی شواہد کو ضائع کرکے تفتیش کا عمل آگے بڑھتا ہے کیسے اکیسویں صدی میں بھی کرائم سین کو محفوظ کرنے کی روایت موجود نہیں فنگر پرنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزاق سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو سوشل میڈیا کا استعمال بار کا الیکشن جیتنے تک ہی محدود رہ گیا ہے پاکستان کے نوجوان وکلاء تبدیلی کے علمبردار ہیں ہمیں امید ہے کہ نوجوان وکلاء کے گروپ اس حوالے سے کام کریں گے حقائق کو سامنے لا کر ہی مسائل حل کیئے جاسکتے ہیں پاکستانی عوام عدلیہ کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور ہماری ساری امیدوں کا مرکز نوجوان وکلاء ہیں ہم نوجوان وکلاء سے امید رکھتے ہیں کہ ضلع کچہری میں جج کا گن مین "ریاست" مونچھوں پر تاؤ دےکر مقدمات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور کس طرح گواہی قلمبند ہوتی ہے اور کس طرح ملزم ہربار اور پھر بار بار باعزت بری ہوجاتے ہیں ہم دنیا سے الگ نہیں پوری دنیا میں اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہوسکتا ہے تو پاکستانی ماتحت عدالتوں میں بھی اکیسویں صدی کے سورج کو طلوع ہونے سے زیادہ دیر نہیں روکا جاسکتا یاد رکھیں ماتحت عدالتی نظام مضبوط ہوگا تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر اثرانداز ہوں گے

No comments:

Post a Comment