پاکستان کے مایہ ناز صحافیوں کو سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوانوں کے سامنے وضاحتیں پیش کرنا پڑیں زندگی کے ہر شعبے سوائے عدلیہ کے سوشل میڈیا نے اپنا رول ادا کیا ہے یہ ایک ایسا فورم بن چکا ہے ہے جہاں سفارش اور دباؤ جیسے ہتھکنڈے ناکام ہوجاتے ہیں لیکن عدلیہ کیوں نہیں اس کی اہم وجہ نوجوانوں کا قوانین سے لاعلم ہونا ہے نوجوان وکلاء کی زمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے زریعے حقائق سامنے لایئں کہ کس طرح اکیسویں صدی میں بھی تفتیشی عمل میں بھی شواہد کو ضائع کرکے تفتیش کا عمل آگے بڑھتا ہے کیسے اکیسویں صدی میں بھی کرائم سین کو محفوظ کرنے کی روایت موجود نہیں فنگر پرنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزاق سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو سوشل میڈیا کا استعمال بار کا الیکشن جیتنے تک ہی محدود رہ گیا ہے پاکستان کے نوجوان وکلاء تبدیلی کے علمبردار ہیں ہمیں امید ہے کہ نوجوان وکلاء کے گروپ اس حوالے سے کام کریں گے حقائق کو سامنے لا کر ہی مسائل حل کیئے جاسکتے ہیں پاکستانی عوام عدلیہ کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور ہماری ساری امیدوں کا مرکز نوجوان وکلاء ہیں ہم نوجوان وکلاء سے امید رکھتے ہیں کہ ضلع کچہری میں جج کا گن مین "ریاست" مونچھوں پر تاؤ دےکر مقدمات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور کس طرح گواہی قلمبند ہوتی ہے اور کس طرح ملزم ہربار اور پھر بار بار باعزت بری ہوجاتے ہیں ہم دنیا سے الگ نہیں پوری دنیا میں اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہوسکتا ہے تو پاکستانی ماتحت عدالتوں میں بھی اکیسویں صدی کے سورج کو طلوع ہونے سے زیادہ دیر نہیں روکا جاسکتا یاد رکھیں ماتحت عدالتی نظام مضبوط ہوگا تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر اثرانداز ہوں گے
No comments:
Post a Comment