Sunday, January 13, 2013


سندھ کے باسیوں کیلئے یہ خبر حیرت کا باعث سندھ کے باسیوں کیلئے یہ خبر حیرت کا باعث ہے کہ شاہ زیب کے قاتلوں کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالا ہے جدید دور میں کسی بھی مجرم کا قانون سے بچنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے کیونکہ جدید شواہد اور تفتیش کی بنیاد ریاست سے منسلک سرکاری اورکورٹ میں گھومنے والے کرائے کے گواہوں نہیں بلکہ ساینسی بنیادووں پر جمع کیئے گئے شواہد پر ہے جن میں فنگرپرنٹ،ڈی این اے ٹیسٹ ،موبائل فون ریکارڈ،کلوزسرکٹ کیمرے کی ریکارڈنگ اوربینک ٹرانزیکشن وغیرہ مختصر یہ کہ پاکستان میں جرائم کے خاتمے کےلیئے وہ تمام زرائع موجود ہیں جن کو استعمال میں لاکر جرم کا خاتمہ ممکن ہے اہم رکاوٹ تفتیش کے دوران وسائل کے استعمال اورسماعت کے دوران عدلیہ کی نااہلی اور مشکلات ہیں کیونکہ عدلیہ کی بھی مجبوری ہے کہ وہ مخصوص وکلاء کو ریلیف دے یعنی انصاف کا قتل کرے کیونکہ اگر کچھ خاص قسم کے وکلاء کو ریلیف نہ دیاجائے تو بار اور بنچ کے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ظاہر ہے باراور بنچ گاڑی کے دوایسے پہیئے ہیں جن کا ساتھ چلنا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل کراچی میں بار کے صدارت اور جنرل سیکرٹری کے الیکشن کے اخراجات ایک کروڑ روپیہ اور لاہور میں دو کروڑ سے بھی تجاوز کرگئے ہیں یہ اخراجات قتل کے ایک کیس کے ضمانت کے ریلیف سے ہی پورے ہوجاتے ہیں اور کارپوریٹ سیکٹر کا ایک "چیمبر" اسٹے سارے خرچے نکال دیتا ہے کچھ خاص لوگوں کے آڑ میں کچھ مخصوص لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں جن کے ریلیف میں ریلیف دینے والے کا بھی" ریلیف" شامل ہوتا ہے اسی طرح کچھ ریلیف کورٹ کے "خاص اسٹاف" کیلئے بھی ہوتا ہے اس ریلیف میں ریلیف خاصا تقسیم ہوجاتاہے تفتیشی پولیس کے بغیر ریلیف کا عمل ناممکن ہے اور وہ کیس کو کمزور کرکے شواہد کو ضائع کرنے کے بعد مدعی اور ملزم سے کیس کے اخراجات کی مد میں اچھی خاصی رقم وصول کرنے کے بعد مبہم قسم کاچالان پیش کرتی ہے جس کو بغیر مطالعہ کرکے بعض مجسٹریٹ حضرات انتظامی آرڈر کردیتے ہیں انصاف کی راہ میں سب بڑی غلطی یہاں ہوتی ہے جب مجسٹریٹ پولیس چالان پر انتظامی نوعیت کا آرڈر کررہاہوتا ہے تو اس وقت تمام اسٹیک ہولڈرز کے دل دھڑک رہے ہوتے ہیں کیونکہ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب کسی بے گناہ کے قاتل کو ایک انتظامی آرڈر کے زریعے اصل تحفظ دیا جا تا ہے لیکن اب کچھ مجسٹریٹ حضرات اپنی زمہ داری کا احساس کرتے ہیں اور مطالعہ کرنے کے بعد تفتیش کی کمزوریوں کو دور کروانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کسی تفتیشی افسر کے خلاف باقاعدہ کاروائی کا رواج نہیں ہے چونکہ شعبہ تفتیش کو مستقل ریلیف ملتا ہے اس لیئے ان کو ریلیف حاصل کرنے کے لیئے عدلیہ کو زیادہ ریلیف نہیں دینا پڑتا ملزمان اور مدعی سے حاصل شدہ ریلیف سے سب سے زیادہ فائدہ تفتیشی افسران ہی کو ہوتا ہے ایک تفتیشی افسر کا قول ہے "پولیس کا بے گناہ کبھی عدالت میں گناہ گار نہیں ہوسکتا" جب کیس کی سماعت کے دوران کمزور تفتیش سامنے آتی ہے تو اس وقت اصل قصور وار عدالت اپنے مجسٹریٹ کو نہیں قراردیتی بلکہ پولیس کو ہی قرار دیاجاتا ہے حالانکہ پولیس اور عدلیہ جرائم کو قانونی تحفظ دینے میں برابر کے شریک ہیں پولیس کی کمزور تفتیش کو مکمل عدالتی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور کیا پولیس کی تفتیشی رپورٹ پر مجسٹریٹ انتظامی آرڈر نہیں کرتا ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کسی بھی ملزم کو جو عدالت میں تکلیف ہوتی ہے وہ تاریخیں لگانے کی ہے کیونکہ کیس میں تاخیر سے ان کو عدالت سے باعزت بری ہونے کا جو سرٹیفیکیٹ ملتا ہے اس میں کافی تاخیر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے قبول داری کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے "قبول داری" یہ وہ ریلیف ہے جس کو سن کرآپ کا دل دیوار پر ٹکریں مارنے کو کرے گا اس لیئے اس ریلیف کا زکر ہی نہیں کرتے اب پولیس میں ایک نیا رواج چل نکلا ہے کہ وہ ملزم گرفتار ہی نہیں کرتی مختصر یہ ہے کہ یہ وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے انصاف کی فراہمی ناممکن ہوچکی ہے کتنی ہی جوڈیشل پالیسیاں آجائیں کتنی ہی عدلیہ آزاد ہوجائے پولیس اور عدالتوں کی بھی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے کافی مشکل ہوجاتی ہے لیکن شاہ زیب قتل کیس ایک روشن مثال ہے کہ اگر عدلیہ اور پولیس چاہیں تو کسی بھی ملزم کو پاتال سے بھی ڈونڈھ کر نکالاجاسکتاہے لیکن اس ایشوپر بحث کی ضرورت ہے یہ بھی ایک الگ بحث ہے کہ کیا ہم جرائم کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں یا صرف اور صرف عدالتی فیصلے کرنا چاہتے ہیں چیف جسٹس پاکستان یہ ایک حقیقت ہے کہ فوجداری عدالتیں اپنی سمت کا تعین کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں جرائم پرورش پارہے ہیں SAFIUDIN AWAN 03343093302

غریب عوام اور عدلیہ کراچی کے نواحی علاقوں میں یونایٹڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام کی جانب سے کراچی کے نواحی علاقوں میں تقریباً 30 لیگل ایڈ کلینک لگائے گئے جہاں کمیونٹی کی سطح پر عوام الناس کو نہ صرف مفت قانونی مشورے دیئے گئے بلکہ ان کو مفت قانونی امداد کی پیشکش بھی کی گئی اس دوران مجھے تقریباً زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا وہیں عوام کی وکلاء اور عدلیہ کی متعلق رائے جاننے کا بھی موقع ملا جوکہ ایک دلچسپ تجربہ تھا یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ رائے اتنی اچھی نہ تھی لیکن ایسے شکوے تھے جو اپنوں ہی سے ہوتے ہیں ایک طالبعلم نے بتایا کہ "اس کے گھر میں ڈاکو داخل ہوئے اور ان کو یرغمال بنا کر لوٹ مار شروع کردی لوٹ مار کے دوران ایک ڈاکو نے فریج کا دروازہ کھولا اور گلاس میں پانی ڈال کر پیا اسی دوران ڈاکو اپنے ساتھ لائے ہوئے فروٹ بھی کھاتے رہے اور سکون سے لوٹ مار کرکے فرارہوگئے پولیس کو اطلاع دی اور جب وہ وقوعہ دیکھنے آئے تو میں نے ان کو بتایاکہ ڈاکو نے سامنےرکھے فریج کا دروازہ کھول کرگلاس میں پانی پیا ہے وہاں ان کی انگلیوں کے نشانات موجود ہوں گے جس پر پولیس والے مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے میں نے ابھی ابھی ابن صفی کا ناول پڑھ لیا ہو اور یا ان کو کوئی گھسا پٹا لطیفہ سنادیا ہو جس کے بعد انہوں نے لاپروائی سے فرج ک دروازہ کھولا جس سے انگلیوں کے نشانات ضائع ہوگئے اسی دوران انہوں نے گلاس کو بھی لاپروائی سے اٹھا کر اس پر موجود انگلیوں کے نشانات ضائع کرکے گلاس کا یوں مشاہدہ کرنے لگے جیسے ڈاکو ڈاکہ مارنے کے بعد گلاس میں چھپے بیٹھے ہوں اسی دوران جائے وقوعہ پر موجود ڈاکوؤں کے کھائے ہوئے فروٹ کے چھلکے اور ایک تھیلی میں سیب بھی موجود تھے جسے پولیس والے ساتھ لے گئے جب ہم تھانے لے گئے تو پولیس والے اس اہم شہادت یعنی سیب کو کھارہے تھے یہ دیکھ کر ہی ہم سمجھ گئے کہ اب ہمارا لوٹا ہوا مال ہمیشہ کیلئے لٹ گیا ہے" اس پر اب مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں سمجھتا اسی طرح ہرجگہ عدالتوں کی سیڑھیوں کے چرچے سنائی دیئے لوگ انصاف حاصل کرنے کیلئے عدالتی سیڑھیوں کے شکوے کرتے نظرآئے بےشمار خامیوں کے باوجود بلدیاتی نظام سے منسلک مصالحتی کمیٹیوں کے بارے میں عوام نے نہ صرف مثبت رائے کا اظہار کیا بلکہ حقیقت سے بھی قریب تر قرار دیا کیونکہ عوام کی رسائی منتخب بلدیاتی نمائندوں تک باآسانی ہوتی ہے کمیونٹی کی سطح پر مراد میمن گوٹھ ملیر کی خواتین نے بتایا کہ ان کیلئے عدالت میں جانا کافی مشکل ہے کیونکہ آج کل نادرا کی جانب سے اکثر خواتین کوسول عدالت میں کیس داخل کرنے جانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کو پریشانی ہوتی ہے جس طرح عوام کا پولیس کے متعلق ذہن بن گیا ہے اسی طرح عدلیہ سے متعلق بھی ایک سوچ ہرجگہ پیدا ہوگئی ہے وہ عدم اعتماد کی نہیں وہ سوچ عدم تعاون کی ہے وہ سوچ لاعلمی کی ہے عوام نہیں جانتے کہ ان کو انصاف کس طرح ملے گا اسی طرح عوام اور عدلیہ کے درمیان فاصلے اس لیئے موجود ہیں کہ عدلیہ کافی سارے معاملات میں لکیر کی فقیر بنی ہوئی ہے ماتحت عدلیہ اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کتراتی ہے ماتحت عدلیہ کسی تھانے سے غیرقانونی حراست تو ختم کرادیتی ہے لیکن پولیس افسران کے خلاف قانونی کاروائی کرنا مشکل ہوجاتا ہے صرف ایس ایچ او کو ڈانٹ کر ہی گزارا کرلیا جاتا ہے عدالت ایف آئی آر درج کرنے کیلئے مدعی کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم تو جاری کردیتی ہے لیکن ایف آئی آر جھوٹی ہونے کی صورت میں مدعی کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی فیملی مقدمات میں بھی ججز اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کافی گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں حالانکہ جج کو دلیر ہونا چاہیئے بروقت انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خواتین کی اکثریت اپنے مقدمات ادھورے ہی چھوڑدیتی ہیں جوکہ بعد ازاں عدم پیروی پر خارج ہوجاتے ہیں اسی طرح خواتین کی جانب سے فیملی مقدمات میں بار بار عدالتی نوٹسز جاری کرنے کے عمل کو غیر حقیقت پسندی پر مشتمل عمل قرار دیا کیونکہ یہ بھی رواج ہے کہ مخالف پارٹی مقدمے کو عدالتی عملے کے ساتھ مل کر دیکھتی رہتی ہے اور بار بار کے عدالتی نوٹسز کے چھ مہینے کے بعد جب پبلیکیشن بھی ہوجاتی ہے تو اگلی تاریخ پر مخالف پارٹی پیش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین کے کافی اخراجات ہوجاتے ہیں خواتین کا مطالبہ تھا کہ فیملی تناذعات میں بھی بار بار مخالف فریق کو نوٹسز جاری کرکے قیمتی وقت ضایع کرنے کی بجائے اگر پبلیکیشن پیسٹنگ اور بزریعہ ڈاک تمام نوٹسز ایک بار ہی جاری کردیئے جایئں تو مقدمات تیزی سے نمٹ سکتے ہیں کیونکہ مقامی خواتین مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں ہی مایوس ہوجاتی ہیں خواتین نے تنازعات کے حل کیلئے متبادل عدالتی حل کو کافی پسند کیا اور اس پر تعاون کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ اس طریقہ کار کو اگر بھرپور طریقے سے رائج کیا جائے تو اس کے بھرپور اثرات نظر آئیں گے عدلیہ سے بے پناہ شکایات کے باوجود عدالتوں پر عوام کا اعتماد اس بات کی دلیل ہے کہ عوام عدالتوں سے نہیں بلکہ عدالتی نظام سے تنگ ہیں اور نظام سے منسلک معمولی نوعیت کی شکایات بھی حل کرنے میں وہ تمام افلاطون ناکام ثابت ہوئے ہیں جو ہرسال جوڈیشل پالیسی بنانے کیلئے اسلام آباد میں جمع ہوتے ہیں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے عدلیہ کو فوری طور پر ماتحت عدلیہ میں کم ازکم فیملی مقدمات پر تو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے

اہلیان سندھ کو خوشخبری اہلیان سندھ کو خوشخبری ہو کہ مجسٹرٰیٹ کی پچاس لاکھ روپے سے زیادہ مالیت والی سیٹوں پر میرٹ کی بنیاد پر 45 امیدواروں کو منتخب کرلیا گیا ہے اس سے پہلے بھی ایک بیج میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا جا چکا ہے اس طرح سندھ کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے میرٹ پر تقرریاں کرکے اپنا وعدہ پورا کردیا ہےایسے وکلاء مجسٹریٹ بنے جو کہ خواب میں بھی رشوت اور سفارش کا سوچ نہیں سکتے تھے ماضی میں مجسٹریٹ کی سیٹوں پر کروڑوں روپے کما کر پیشکار اور اسٹینو ٹائپ افراد کو ان سیٹوں پر لگایا جاتا رہا ہے جو کہ سندھ کی ماتحت عدلیہ کیلئے آج بھی مستقل ناسور بنے ہوئے ہیں ایسے ناسوروں کے خلاف کاروائی ممکن بھی نہیں کیونکہ عدلیہ آزاد ضرور ہوئی ہے لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ رشوت خور جج کے خلاف کاروائی بھی کرنی ہوگی کیونکہ ماضی میں رشوت دے کر بھرتی ہونے والے ناسوروں کے ہاتھ افتخار چوہدری سے بھی زیادہ مضبوط ہیں آپ آزما کر دیکھ لیں سندھ کے کسی رشوت خورپیشکار اسٹینو ٹائپ ناسورجج کے خلاف کتنی ہی مضبوط شواہد کے ساتھ درخواست متعلقہ ادارے ایم آئی ٹی کو دیکر تو دیکھیں کسی قسم کی کاروائی تو دور کی بات اگر "بار" جیسا ڈنڈاپیر موجود نہ ہو تو وکیل صاحب "اندر" بھی ہوسکتے ہیں ویسے سندھ کی ایم آئی ٹی کو بھی پنجاب سے سبق سیکھنا چاہیئے کیونکہ جب کورٹ اسٹاف اور ججز کی تنخواہ پنجاب کے ججز کے برابر کرنے کیلئے پنجاب سے سبق سیکھا جا سکتا ہے تو احتساب کیلئے بھی پنجاب کی ایم آئی ٹی سےہی سے سبق سیکھ لیں کہ کس طرح رشوت لینے والے ججز عبرت کا نشان بن جاتے ہیں سندھ کی ماتحت عدالتوں میں میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کے بعد کیا ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ رشوت خور ججز کے خلاف کاروائی بھی تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگی کیونکہ گنتی کے چند ناسور ججز جن کو سب جانتے ہیں ان اکثریتی ججز کیلئے بھی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں جن کا دامن رشوت سے پاک ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ سندھ کی عدلیہ میں ایسے ججز بھی موجود ہیں جو میرٹ کے معاملے میں کسی قسم کی سودے بازی نہیں کرتے اور بعض اوقات بڑی سے بڑی سفارش اور دباؤ کو خاطر میں نہ لاکر اپنی اور اپنے پورے خاندان کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں ایسے لوگ بلاشبہ خراج تحسین کے مستحق ہیں

پاکستان کے مایہ ناز صحافیوں کو سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوانوں کے سامنے وضاحتیں پیش کرنا پڑیں زندگی کے ہر شعبے سوائے عدلیہ کے سوشل میڈیا نے اپنا رول ادا کیا ہے یہ ایک ایسا فورم بن چکا ہے ہے جہاں سفارش اور دباؤ جیسے ہتھکنڈے ناکام ہوجاتے ہیں لیکن عدلیہ کیوں نہیں اس کی اہم وجہ نوجوانوں کا قوانین سے لاعلم ہونا ہے نوجوان وکلاء کی زمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے زریعے حقائق سامنے لایئں کہ کس طرح اکیسویں صدی میں بھی تفتیشی عمل میں بھی شواہد کو ضائع کرکے تفتیش کا عمل آگے بڑھتا ہے کیسے اکیسویں صدی میں بھی کرائم سین کو محفوظ کرنے کی روایت موجود نہیں فنگر پرنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزاق سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو سوشل میڈیا کا استعمال بار کا الیکشن جیتنے تک ہی محدود رہ گیا ہے پاکستان کے نوجوان وکلاء تبدیلی کے علمبردار ہیں ہمیں امید ہے کہ نوجوان وکلاء کے گروپ اس حوالے سے کام کریں گے حقائق کو سامنے لا کر ہی مسائل حل کیئے جاسکتے ہیں پاکستانی عوام عدلیہ کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور ہماری ساری امیدوں کا مرکز نوجوان وکلاء ہیں ہم نوجوان وکلاء سے امید رکھتے ہیں کہ ضلع کچہری میں جج کا گن مین "ریاست" مونچھوں پر تاؤ دےکر مقدمات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اور کس طرح گواہی قلمبند ہوتی ہے اور کس طرح ملزم ہربار اور پھر بار بار باعزت بری ہوجاتے ہیں ہم دنیا سے الگ نہیں پوری دنیا میں اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہوسکتا ہے تو پاکستانی ماتحت عدالتوں میں بھی اکیسویں صدی کے سورج کو طلوع ہونے سے زیادہ دیر نہیں روکا جاسکتا یاد رکھیں ماتحت عدالتی نظام مضبوط ہوگا تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر اثرانداز ہوں گے

منظم ترین بدانتظامی، تبدیلی کا عمل اور نوجوان وکلاء اگر انصاف تک فوری رسائی کا پرگرام کامیاب ہوجاتا ہے عدالتی نظام میں بد انتظامی دور ہوجاتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ عوام ،سول سوسائٹی وکلاء اور بالخصوص "نوجوان وکلاء" کو ہوگا کیونکہ ایک منظم ترین بدانتظامی کی وجہ سے ماتحت عدلیہ بحران کا شکار رہتی ہے عوام کو انصاف نہیں ملتا جس کی وجہ سے لوگ مایوس ہوکر عدالتوں کا رخ نہیں کرتے کیونکہ بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ ایک انتہائی "منظم ترین بدانتظامی" کے زریعے ماتحت عدلیہ کو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ایک "خاص" طریقے سے چلایا جارہا ہے جس کی وجہ سے مقدمے بازی کے زریعے انصاف حاصل کرنا ناممکن ہے عوام انصاف کیلئے تو عدالت میں آتے ہی نہیں کسی مجبوری کی وجہ سے اگر عدالت سے" واسطہ" پڑبھی جائے توباقی عمر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے عدالتی بدانتظامیوں پر طنز کرتے ہوئے گزرتی ہے عدلیہ بھی تبدیلی کے عمل سے گزررہی ہے بعض اوقات تبدیلی کا عمل جب شروع ہوتا ہے تومزاحمت بھی ہوتی ہے کیونکہ بدانتظامی ختم کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ" منظم ترین بدانتظامی" ہے موجودہ دور بھی بدانتظامی سے بہتری کی طرف جانے کا دور ہے ہم سب کو چاہئے کہ جو تبدیلی کے عمل کے دوران غلطی نظرآئے اس کی نشاندہی کریں تبدیلی کا عمل ناخوشگوار تو ہوسکتا ہے لیکن اس کا اختتام ایک بہتر تبدیلی کی صورت میں اسی صورت میں نکل سکتا ہے جب تبدیلی پر یقین رکھنے والے منظم ہوں اور ان کی سوچ یہ ہوکہ ہر صورت میں انصاف کا بول بالا ہوعوام چاہے غریب ہوں یا امیر ان کو انصاف اس طرح ملے کہ وہ سب کو نظر بھی آئے وکلاء مقامی سطح پر فورم تشکیل دیں عدالتی نظام میں بہتری لانے کیلئے فوکس گروپ ڈسکشن تو نوجوان وکلاء کسی بھی بار روم میں بیٹھ کر کر سکتے ہیں جو مسائل نظر آرہے ہوں جو مشکلات پیش آرہی ہوں ان کی نشاندہی سیشن جج ،ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف پاکستان کو کی جاسکتی ہے لیکن مقامی سطح پر آپ کا سیشن جج ہی بہترین فورم پے ضلعی سطح پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیزکی تشکیل کیلیے رولز اور کروڑوں روپے کے فنڈز پورے پاکستان کے ڈسٹرکٹ ججز کو جاری کردیئے ہیں ان کمیٹیوں میں "بار" کے صدر اور سیشن جج کو انتظامی اختیارات حاصل ہیں نوجوان وکلاء کوشش کریں کہ ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کے آفسز بار میں قائم کرنے کیلئے با رسے درخواست کریں اور کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے پہلے ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کے ان رولز کا مطالعہ ضرور کرلیں جو کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے تشکیل دیئے ہیں آن لائن مطالعہ کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ قانونی امداد کی مد میں حکومت جو بھی فنڈز سرکاری اداروں کو جاری کرتی ہے وہ کم ہی استعمال ہوتے ہیں جیساکہ ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کی مد میں مختص کئے گئے فنڈز جو کہ صرف اور صرف ان وکلاء کی فیس ہےجو کہ ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کے پینل پر موجود وکلاء غریب افراد کو قانونی امداد فراہم کریں گے لیکن ایک "انتہائی منظم ترین بدانتظامی" کا نتیجہ دیکھ لیں کہ وہ فنڈز ابھی تک کوشش کہ باوجود استعمال نہیں ہوئے اور نہ ہونگے لیکن کتنے وکلاء ہیں جنہوں نے اس حوالے سے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے چئیرمین افتخار محمد چوہدری کو آگاہ کیا ہے کہ ان کا سیشن جج وکلاء کی فیسوں کی مد میں ملنے والے پیسے خرچ نہیں کرنا چارہا عدالتوں میں دور دراز سے آنے والے غریب سائلین جو عدالتی اخراجات برداشت نہیں کرسکتے آج بھی اسی لیئے پریشانیوں کا شکار ہیں کیونکہ ضلعے کا مقامی سیشن جج فنڈز ہونے کے باوجود ان کا استعمال نہیں کررہا وکلاء بحالی تحریک کے دوران ہمارے ساتھ سرگرم سول سوسائٹی کے ادارے بھی آج یہی سوالات اٹھاتے ہیں کہ کہ غریبوں کو قانونی امداد کی فراہمی کیلئے زوروشور سے بنائی گئی کمیٹیوں کا انجام کیا ہوا لیکن وکلاء کی اکثریت تو ابھی تک ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیزکے نام سے بھی واقف نہیں جوکہ وکلاء کیلئے یقینناً ایک المیہ ہے موجودہ صورتحال میں وکلاء کے ہرطبقے کو اس پر غور کرنا ہوگا کہ کورٹ میں ہونے والی ہڑتالوں نے پیشہ وکالت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے عدالتی کلچر میں تبدیلی ہمارا مقدر ہے اور اس سارے عمل میں نوجوان وکلاء اور لیگل رائٹس فورم کا کردار فیصلہ کن ہوگا اور ہم نوجوان وکلاء کے ساتھ مل کر تبدیلی کے عمل کے دوران فیصلہ سازی کے عمل پر بھرپور طور پر اثر انداز ہوںگے جس طرح 2009 میں وکلاء بحالی کی مہم کے دوران لیگل رائٹس فورم نے 2009 کو نوجوان وکلاء کے سال کے طورپر منانے کا اعلان کیا تھا بعد ازاں لیگل رائٹس فورم کی درخواست پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 2009 کو نوجوان وکلاء کے سال کے طور پر منانے کا اعلان کرکے ثابت کیا تھا کہ وہ اصل طاقت کا محور نوجوان وکلاء ہی کو سمجھتے ہیں عدالتی نظام کو دورجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کی جانے والی تبدیلیوں کی کوشش پر بے جا تنقید کرنے والے عناصر کی خدمت میں صرف دو اقوال پیش کرنا چاہتے ہیں ہزاروں برس قبل چینی فلسفی کنفیوشس نے کہا تھا’’تبدیلی کو صرف دو انسان ناپسند کرتے ہیں…ذہین ترین اور سب سے پاگل!‘‘اسی طرح یونانی فلسفی،ہیراکلیٹس نے دنیاوالوں کو بتایا ’’تبدیلی کے سوا کرہ ارض پہ کوئی شے مستقل نہیں۔‘‘ Safiudin Awan General Secretary Legal Rights Forum safilrf@gmail.com

کراچی کے قدیم گوٹھ ایک تاثر کراچی کے گردونواح میں واقع گوٹھوں کے متعلق سن تو کافی عرصے سے رہے تھے لیکن وہاں جانے کا اتفاق کبھی نہ ہوسکا تھا یونائٹڈ نیشن ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جب وہاں جانا ہوا تو ان گوٹھوں میں سول سوسائٹی کا اچھا کام وہاں نظر آیا کراچی ملیر سے متصل گوٹھوں میں موجود سول سوسائٹی کی سب سے اہم خوبی پائداری ہے وہاں بیرونی این جی اوز کا شور شرابہ کم اور مقامی لوگوں کی جانب سے اپنی برادری کیلئے کیئے گئے اقدامات زیادہ نظر آتے ہیں جن میں کمیونٹی سینٹرزاور اسکولوں کاقیام نمایاں ہے مقامی سطح پر کراچی رورل نیٹ ورک (کرن) جسے" ایس پی او" اور "ہینڈز" نے سپورٹ کیا ہے کی لوگوں میں بھرپور پزیرائی نظر آئی اسی طرح سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور ہاشم خاصخیلی ویلفئر سوسایئٹی کا بھرپور رول نظر آیا میں جب ملیر کے مراد میمن گوٹھ گیا تو وہاں پر مجھے دیہی زندگی عروج پر نظر آئی وہ سادگی نظر آئی جس کی تمنا کراچی میں ہم کرتے ہیں خواتین کھیتی باڑی میں مردوں کا ہاتھ بھی بٹاتی ہیں اور ان کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی بھی ہے ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا رواج ابھی تک زندہ ہے وہاں ایک قریبی گوٹھ کا لڑکا نورمحمد بلوچ حال ہی میں مجسٹریٹ کے امتحان میں کامیاب ہوا تھا جس پر مقامی باشندے بہت خوش تھے اور وہ سب اپنے لیئے اعزاز سمجھ رہے تھے اور اس کی کامیابی کو ذاتی اور علاقے کی کامیابی سمجھ رہے تھے اسی طرح جب مقامی خواتین کے ساتھ جب نشست ہوئی تو اندازہ ہواکہ گوٹھ میں رہنے کے باوجود ان میں بھرپور سیاسی شعور پایا جاتا ہے خواتین کی اکثریت کے پاس شناختی کارڈ موجود تھے خواتین کی اکثریت ووٹ بھی کاسٹ کرتی ہے اور ووٹ اپنی مرضی سے دیتی ہے کافی خواتین خوش تھیں کہ وہاں شہید ذوالفقارعلی بھٹو گورنمنٹ لاء کالج کا افتتاح بھی ہوچکا ہے اور کلاسز کابھی آغاز ہوچکا ہے ان کی پرانی خواہش پوری ہوگئی تھی کہ اب ان کی بچیاں باآسانی وکیل بن سکتی ہیں ایک خاتون نے بتایا کہ 1990 میں میری خواہش تھی کہ میں وکیل بنوں لیکن غربت اور لاء کالج دور ہونے کی وجہ سے یہ خواہش دل میں ہی رہ گئی تھی لیکن اس کی بیٹی نزدیکی کالج سے تعلیم حاصل کرکے اس کی خواہش ضرور پوری کرے گی خواتین نے کہا اب ہم حکومت سے یونیورسٹی کا مطالبہ بھی کررہی ہیں خواتین نے بتایا کہ ان کو بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت کا پتہ ہے جس کی وجہ سے بچوں کو بروقت پولیو کے قطرے اور دیگر امراض کے ٹیکے لگائے جانے کی وجہ سے ملیر کے مقامی گوٹھوں میں پولیو کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے خواتین کا احترام کیا جاتا ہے مہمان کی آؤبھگت کی روایت موجود ہے اور ان کیلئے مقامی باشندے بھرپور مہمان نوازی کرتے ہیں اور مہمانوں کی آمد پر خوش ہوتے ہیں مہمان نوازی کے یہی مناظر مجھے اور میرے ساتھ دوستوں کو ہاشم خاصخیلی گوٹھ میں بھی نظر آئے میرے لیئے ملیر کے نواحی گوٹھوں میں جاکر لوگوں سے ملنا ان کے ساتھ قانون کی آگہی کے حوالے سے نشستیں کرنا ان کی سادہ باتوں کو سننا ایک بہترین تجربہ تھا یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ تمام لوگ عدالتی نظام سے خفا تھے جس کی بے شمار وجوہات ہیں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپورہشن کا ملازم ہے ان کی پٹیشن پرہائی کورٹ فیصلہ نہیں کرپارہی حالانکہ سپریم کورٹ نے ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اسی دوران ایک اور خاتون نے سادگی سے سمجھایا کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں لکھا کہ وہ مہینہ کونسے سال کا ہوگا ہوسکتا ہے وہ ایک مہینہ 2025 کا ہو، بہرحال غریب کا عدلیہ سے اتنا ہی تعلق ہے غریب عدلیہ کی اتنی ہی عزت کرتا ہے جتنی عدلیہ نے غریب کو دے رکھی ہے غریبوں کے دل میں بھی عدلیہ کے لیئے اتنا ہی درد ہے جتنا عدلیہ غریب کیلئے محسوس کرتی ہے میرے ساتھ میرے دوست شعیب صفدر گھمن، زوہیب آرایئں اور شفقت بھی تھے جنہوں نے وہاں منعقدہ پروگرامات میں میرا بھرپور ساتھ دیا کراچی کے قدیم گوٹھ ایک قیمتی اثاثہ ہیں

Thursday, March 15, 2012

Interview S. M. ZAFFAR

سابق وزیر قانون اور ملک کے ممتاز قانون دان ہیں، جن کا کردار متعدد حکومتوں میں نہایت کلیدی رہا ہے۔ گذشتہ روز ان کے ساتھ اسلام ٹائمز نے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ بڑے پرسکو ن ماحول میں نہایت اہم گفتگو ہوئی، جس میں وہ نکات اٹھائے گئے ہیں جن سے بہت کم قارئین آگاہ ہوں گے۔ یہ چشم کشا حقائق پہلی بار کئے جا رہے ہیں۔
اسلام ٹائمز:اپنے ابتدائی حالات اور خاندانی پس منظر سے قارئین اسلام ٹائمز کو آگاہ فرمائیے؟
ایس ایم ظفر:میری پیدائش پاکستان سے دُور شہر رنگون میں ہوئی جو ملک برما کا دارالحکومت تھا۔ وہاں میرے والدین اُس دَور میں روزی کی تلاش میں وہاں پہنچے تھے اور انہوں نے وہاں اپنا ایک مقام بنایا۔ میرا تعلق دِینی میلان رکھنے والے خاندان سے ہے۔ والد صاحب کا نام سید محمد اشرف کشفی شاہ نظامی ہے۔ وہ خواجہ حسن نظامی رہ کے مرید بلکہ خلیفہ تھے اور یہ لفظ کشفی شاہ خواجہ حسن نظامی نے ان کو بطور لقب کے دِیا تھا۔ والد صاحب نے ایک سیرت کمیٹی بنائی تھی جس کا واحد مقصد عید میلادالنبی ص کو خوشیوں اور شان سے منانا تھا اور یہ اُس مشن پر اس وقت تک قائم رہے، جب تک ان کی زندگی رہی، بلکہ جس دِن حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ عید میلادالنبی ص سرکاری سطح پر منائی جائے گی، اُس کے چند دن بعد والد صاحب وفات پا گئے۔ شروعات کی تعلیم رنگون میں حاصل کی اور جب جنگ عظیم دوئم میں جاپان نے سنگاپور فتح کر لینے کے بعد برما پر حملہ کیا تو ہمارا خاندان واپس آ گیا۔ بقایا تعلیم مَیں نے پاکستان کے ایک دیہاتی سکول ”غلام دِین ہائی سکول“ میں حاصل کی، جو شکرگڑھ کے قصبہ مینگڑی میں واقع ہے۔ میٹرک کا اِمتحان دیا اور اپنے بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ وظیفہ بھی حاصل ہُوا اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔
گونمنٹ کالج سے بی اے کرنے کے بعد لاء کالج سے ایل ایل بی کیا۔ گورنمنٹ کالج میں سٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری جنرل بنا۔ ڈیبیٹس میں حصہ لیا کرتا تھا۔ لاء کالج میں بھی یہ مشاغل جاری رہے۔ 1951ء سے 1965ء تک وکالت کرتا رہا۔ 1965ء کے اُس پہلے دَور میں پنجاب بار کونسل کا ممبر منتخب ہُوا۔ 1965ء ہی میں وزارتِ قانون کا عہدہ ایوب خاں صاحب کی جانب سے مجھے مِلا اور مَیں اُن کی کابینہ میں شامل ہو گیا۔
اِسلام ٹائمز: قانون دان بننے کا فیصلہ آپ کا اپنا تھا یا بزرگوں کے مشورے سے اس جانب مائیل ہُوئے؟
ایس ایم ظفر: والد صاحب کی خواہش ضرور تھی کہ مَیں اِنجینئرنگ کروں اور اِنجینئرنگ کالج میں مَیں نے داخلہ بھی لے لیا تھا، لیکن پھر اپنے طور پر فیصلہ کیا کہ مَیں اِنجینئر نہیں بننا چاہتا، مجھے وکالت کا پیشہ پسند ہے، چنانچہ اِنجینئرنگ کالج سے مَیں نے داخلہ واپس لے کر گونمنٹ کالج لاہور میں دوبارہ داخلہ لے لیا.... تو اِس لحاظ سے یہ میرا اپنا فیصلہ تھا۔ بعد میں جب والد صاحب کو پتہ چلا تو اُنہوں نے اشیرباد دی۔
اِسلام ٹائمز: 1958ء کے مارشل لاء کا پس منظر کیا تھا، کچھ تفصیلات سے آگاہ فرمائیں۔؟
ایس ایم ظفر: 1958ء کے مارشل لاء کے وقت مَیں صرف وکالت کر رہا تھا۔ 1952ء سے میری وکالت کو چھ سال ہی ہُوئے تھے۔ 1956ء کے آئین کے تحت جو پارلیمنٹ وجود میں آئی تھی اُس کی وزارتیں یکے بعد دیگرے گر رہی تھیں۔ 1956ء سے 1958ء تک سات کابینائیں ڈِس مِس ہُوئیں اور آخری دِنوں میں تو ہفتوں کے اندر کابینہ فارغ ہو جاتی تھی۔ پارلیمنٹ میں اِس قسم کی دَوڑ اور ریس کی وجہ سے مُلک کی بڑی بدنامی ہو رہی تھی۔ مُلک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتِ حال بڑی خراب تھی، اُس کو سامنے رکھتے ہُوئے سکندر مرزا نے یہ مارشل لاء لگایا تھا اور ہم سب کو بڑا افسوس ہُوا کیونکہ ہم اُس وقت وکالت کر رہے تھے۔ وکیلوں کو مارشل لاء پسند نہیں آتا۔ 1958ء میں مارشل لاء لگا تو ایک نوجوان کا نام اُبھر کر سامنے آیا اور وہ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔
اِسلام ٹائمز:ایوب خاں کا دَورِ حکومت بحیثیت ِ مجموعی کیسا تھا؟ کیا جمہوری حکومتوں کے مقابلے میں اُسے ایک مثالی عہد قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے اِمتیازات اور خوبیوں کے حوالے سے آپ آگاہ فرمائیں۔؟
ایس ایم ظفر: مَیں آپ کو یہ بتاتا ہُوں کہ 1965ء میں میرا تعلق (اُس مارشل لائی حکومت سے) کیسے قائم ہُوا۔ 1965ء کا زمانہ وہ ہے جب ایک باقاعدہ قانون مُلک میں نافذ ہو چکا تھا۔ 1958ء سے لے کر 196ء تک مارشل لاء کا زمانہ تھا۔ 1962ء کے بعد ایک آئین بنا۔ 1962ء سے 1965ء تک کے اُس دَور میں اِنسانی حقوق نہیں تھے، سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اِجازت نہیں تھی۔ 1965ء میں آئین میں تبدیلی آئی اور اِنسانی حقوق کے باقاعدہ ایک باب کا اضافہ ہُوا اور سیاسی جماعتوں کو اِنتخابات لڑنے کی اِجازت مِلی اور جب بہت ساری سیاسی جماعتیں اِنتخابات لڑ کر قومی اسمبلی میں آ گئیں۔ 1965ء میں اِس نئے آئین کے ماتحت پولیٹکل پارٹیز کی موجودگی میں ایک باقاعدہ فعال اسمبلی میں مَیں کابینہ کا حصہ بنا۔ ایوب خاں کا دَور اِقتصادی حوالے سے ایک نہایت درخشاں دَور تھا۔ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی ایوب خاں کے وِژن کا حصہ تھی۔ وہ جمہوری ذہن تو زیادہ نہیں رکھتے تھے، لیکن اُس دَور میں مُلک کو آگے لے جانے کے اصول ضرور تھے، یعنی گڈ گورننس میں اُن کا بڑا دھیان تھا، چنانچہ اُنہی کے زمانے میں ہمارے دو بڑے بڑے ڈیم بنے، تربیلا ڈیم اور وارسک ڈیم ۔ اِسلام آباد مکمل ہُوا، مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ بے حد اچھا شہر بنا دیا گیا، اِنڈسٹری اِس قدر تیزی سے آگے بڑھی کہ اُس وقت کے اکنامک دانشوروں اور ایکسپرٹس کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور جاپان کے درمیان ایک نیا اقتصادی ستارہ اُبھر رہا ہے۔ یہاں تک کہ کوریا کے لوگ پاکستان تشریف لائے اور اُنہوں نے ہم سے ہمارا ”فائیو ایئر پلان“ مستعار لیا۔ مَیں ابھی پچھلے مہینے کوریا گیا تھا ، کوریا ترقی کر کے بہت آگے جا چکا ہے، لیکن اُن کے لیڈروں سے اب جو ملاقات ہُوئی تو اُنہوں نے برملا کہا کہ ہم آپ کے دِیے ہُوئے پلان پر عمل کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔ یہ تھا وہ پاکستان کہ جس میں ہم کو کہیں ویزہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی!....
اِسلام ٹائمز:لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے میں ایوب خاں کا بھی رول تھا، اس میں کہاں تک صداقت ہے۔؟
ایس ایم ظفر: دیکھیں، بات یہ ہے کہ پاکستان کو دو لخت کرنے کے اِتنے بڑے المیے میں کسی ایک شخص کو موردِ اِلزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جو مُلک ایک رُوح پرور تحریک کے ذریعے بنایا گیا، جس کا ایک بڑا تصور تھا، اس کو توڑنا ایک آدمی کا کام نہیں تھا۔ یہ ہماری ایک عادت سی بن گئی ہے کہ جب کوئی چلا جائے تو ہم ڈنڈے لے کر اُس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ آپ نے اگر معلوم کرنا ہو کہ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ کیوں ہُوا تو آپ کو تاریخ کی بہت ساری گہرائیوں میں جانا پڑے گا۔ سب سے پہلے تو آپ سٹارٹ کیجئے کہ 1947ء سے 1956ء تک آئین کیوں نہیں بنا؟ جب مُلک 9 سال بے آئین رہے اور اُس کے اندر من مانی جاری ہو اور جو لوگ 1946ء میں منتخب ہُوئے تھے، وہی مُلک میں بغیر اِنتخابات کرائے حکومت کرتے رہیں تو اندازہ کیجیے کہ اس سے کتنی خرابیاں آ جاتی ہیں؟ پھر 1956ء میں ہم نے جو آئین بنایا، اُس آئین میں بھی مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کے جراثیم موجود تھے۔ سب سے پہلا جرم تو ہم نے یہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی آبادی کو مغربی پاکستان کے برابر کر دیا، کیونکہ اُن کی آبادی ہم سے زیادہ تھی۔ ون مَین ون ووٹ کے جمہوری اصول کو ہم نے توڑ دیا۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہُوا کہ کیا مقابلتاً مغربی پاکستان کے افراد میں ہمارے افراد کا تناسب کم ہے۔؟ اس احساس نے اُن میں احساسِ کمتری کو جنم دیا، ایک کمپلیکس پیدا کیا۔ پھر 1956ء کے آئین میں ہم نے سینیٹ نہیں بنائی اور سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ مشرقی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیا۔ فیڈریشن کی جتنی تعریفیں اور تصریحات لوگوں نے اب تک کی ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ جو فیڈریشن دو یونٹ پر بنایا جائے وہ پچھتر فیصدی فیل ہو جاتا ہے۔ ہم نے پانچ یونٹ سے دو یونٹ اپنے آپ بنا دیے۔ پانچ یونٹ اگر رہتے تو ہم شاید کچھ اور عرصہ چل جاتے۔ وہ تمام معاملات جس سے مُلک کے علیحدہ ہونے کا اندیشہ ہو، اس عمل سے پیدا کر دیے گئے.... لیکن پھر بھی مُلک علیحدہ نہ ہوتا۔
جب 1965ء کی جنگ ہُوئی تو اُس وقت ہماری جو یہ منطق تھی کہ ہم مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کریں گے، وہ ٹوٹ گئی۔ مشرقی پاکستان میں جب ہندوستان کے جہاز آتے تھے، تو وہاں ہمارے پاس دفاع کے لئے کچھ نہ تھا، اور جب مَیں مشرقی پاکستان قومی اسمبلی میں گیا تو وہاں کے لیڈروں نے مجھ سے بحیثیت وزیرِ قانون یہ سوال کیا کہ آپ نے ہم کو بھارتیوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے۔ اور جب ذوالفقار علی بھٹو نے اسمبلی میں ان سوالات کا یہ جواب دیا کہ ہم نے مشرقی پاکستان کی حفاظت چین کے بیانات کی صورت میں سفارتی ذرائع سے کی تھی تو مشرقی پاکستان میں وہ لہر اُٹھی، جس میں اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم سفارت کاری کی وجہ سے بچے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم آئندہ نہیں بچ سکتے۔ اور پھر اُس موقع پر مجیب الرحمٰن کے ہندوستان جانے اور مجیب الرحمٰن سازش کیس کا واقعہ رونما ہُوا۔ 1965ء کی جنگ میں مشرقی پاکستان کی قیادت او لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ ہماری حفاظت کا تو پاکستانی ریاست میں کوئی اِنتظام ہی نہیں ہے، اگر بھارت ہم پر حملہ کرے تو ہمارے پاس اپنے دفاع کے لئے کچھ ہے ہی نہیں ہے، تو وہاں 1965ء کی جنگ کے بعد ان میں سوچ پیدا ہوئی۔ مَیں بتا رہا ہوں کہ مُلک اب بھی نہ ٹوٹتا۔ ایک آدمی کی وجہ سے ملک نہیں ٹوٹا۔ پھر جب یحییٰ خان نے انتخابات کرائے تو قومی اسمبلی میں اکثریت مجیب الرحمان کی تھی ۔مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان آئین بنانے پر سمجھوتہ نہ ہوا۔ بھٹو صاحب نے اعلان کیا کہ جو مشرقی پاکستان جائے گا، وہ ایک جانب کا ٹکٹ لے کے جائے گا۔ آئین بھی نہ بن سکا اور مجیب الرحمان کو پرائم منسٹر بھی نہ بنایا گیا۔ انتخابات کے نتائج نہ مانے گئے اور پھر مشرقی پاکستان کے لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب ہمارا ان کے ساتھ رہنا ناممکن ہے۔ مَیں پھر کہوں گا کہ مُلک پھر بھی نہ ٹوٹتا، اگر بھارت اپنی پوری عیاری کے ساتھ مداخلت نہ کرتا، رُوس اس کی مدد نہ کرتا اور امریکہ ہمارے ساتھ دغا نہ کرتا۔ اتنے سارے عوامل کو آپ ایک آدمی پر کیسے ڈال سکتے ہیں۔
اِسلام ٹائمز:کہا یہ بھی جاتا ہے کہ خارجہ پالیسی کی ناکامیوں میں ایک اہم عامل ہمارا امریکہ کے بہت قریب چلے جانا بھی تھا، جب سب سے پہلا امریکی دَورہ وزیرِاعظم لیاقت علی خاں نے 1952ء میں فرمایا۔ کیا یہ ایک عظیم تاریخی چُوک نہ تھی، جس کا خمیازہ امریکی شکنجے میں پُوری طرح جکڑے جانے کی صورت میں آج ہم بھگت رہے ہیں۔؟
ایس ایم ظفر: مَیں اِس سے متفق نہیں ہوں۔ لیاقت علی خان کا امریکہ جانا بالکل درست تھا۔ یہ دنیا جو دو کیمپوں میں تقسیم تھی، ان میں ایک امریکہ تھا اور دوسرا روس۔ لیاقت علی خان کو اُن میں سے کسی ایک کو چُننا پڑ رہا تھا۔ رُوس میں اِشتراکیت تھی جبکہ خدا پہ اعتقاد اُن کے ڈالر پہ لکھا ہوتا تھا۔ (اِس موقع پر جناب ایس ایم ظفر، نمائندہ اِسلام ٹائمز سے مسکراتے ہوئے مخاطب ہُوئے) تو بتائیے کہ آپ اپنی اس شرعی داڑھی کے ساتھ کس کے حق میں فیصلہ کرتے۔؟
رُوس اور ہندوستان کی نزدیکی پاکستان اور ہندوستان کی آزادی سے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ نہرو اور اُس کی بہن کا ماسکو کے ساتھ بڑا اور واضح تعلق تھا۔ ہماری Intelligence کو اور ہمارے لوگوں کو کا خیال تھا کہ اگر بھارت کی روس کے ساتھ نزدیکی ہے تو بھارت کی ہمارے ساتھ ُدشمنی کی بناء پر ہمار ے پاس کوئی Choice نہیں تھا، سوائے اس کے کہ ہم امریکہ کے قریب جاتے۔ لیکن امریکہ کے قریب جانا غلط نہیں تھا، اس کے بعد امریکہ سے صحیح طریقے سے استفادہ نہ کرنا اور ملنے والے فائدے کو ضائع کر دینا ہمارا اصل قصور تھا۔ آج ہم جو امریکی شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں تو یہ سب ہماری اپنی پیدا کردہ خرایباں اور اپنی بدعنوانیوں اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہے۔ امریکہ نے ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ہم نے اپنے آپ کو خود پہنچایا ہے۔
اِسلام ٹائمز:گزشتہ دِنوں ایران نے اپنی ایٹمی تنصیبات کی جاسوسی کے لئے آنے والے ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا، جبکہ ہم ہیں کہ ایک طویل عرصے سے اپنی سرزمین کو امریکیوں کی چراگاہ بنا رکھا ہے، یہ پالیسی کیا قومی مفادات کے ساتھ غداری کے زُمرے میں نہیں آتی۔؟
ایس ایم ظفر :دیکھیں جی، غداری کا لفظ تو بہت سخت ہے، لیکن فی الحقیقت یہ قوم کی غیرت کے خلاف تو بہرحال ہے۔ ابھی تک یہ معمہ حل نہیں ہوا کہ یہ ڈرون اٹیک ہماری مرضی سے ہوتے ہیں یا ہماری مرضی کے خلاف ہوتے ہیں۔ اگر ہماری مرضی سے ہوتے ہیں تو پھر نہ غیرت کا مسئلہ ہے نہ غداری کا۔ اور اگر یہ ہماری حکومت کی مرضی سے نہیں ہو رہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہے ہیں۔ اس کے لئے میں بہت ہی مشکل سی زمین پر بحث کرنے لگا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آج کل بین الاقوامی طور ایک نیا بین الاقوامی اصول طے کیا جا رہا ہے، وہ بڑا خطرناک اصول ہے اور وہ یہ ہے کہ بلاشک و شبہ کسی ملک کی سالمیت اور اس کی حدود پر کوئی دوسرا ملک حملہ نہیں کر سکتا، البتہ ڈرون اٹیک سے یا فوجی بھیج کر اس مسلمہ اصول میں ایک استثنیٰ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ یہ کہ اگر کسی ملک کا اپنے علاقے پر کنٹرول ختم ہو گیا ہو، اس کی اپنی رِٹ نہ چلتی ہو، اور رِٹ نہ چلنے کے کچھ ثبوت انہوں نے اپنے طور پر طے کر لئے ہیں کہ وہاں اس کے ریونیو آفیسرز کام نہ کر سکتے ہوں، وہاں اس ملک کی عدلیہ نہ جاسکتی ہو اور ان کی فوج وہاں مقابلہ کرنے کے لئے جاتی ہو، امن کی حالت میں ایک کنٹونمنٹ کے طور پر نہ بیٹھ سکتی ہو، وہاں ان کا علاقے کا اپنا نظام چلتا ہو، تو پھر اس علاقے کو باوجود اس کے کہ وہ اس ریاست کا حصہ تو ہو، تاہم ریاستی رِٹ نہ ہونے کے باعث دوسرے کسی ملک کو خطرہ ہو اور جس سے اس کا امن و امان بگڑ سکتا ہے، تو وہ اس علاقے پر کاروائی کر سکتا ہے اور وہ کاروائی مداخلت نہیں گنی جائے گی۔
اِسلام ٹائمز:پھر تو انڈیا کے لئے بھی یہ جواز موجود ہو گا کہ اپنے تحفظ کے لئے وہ ہم پر حملہ آور ہو سکتا ہے ....؟
ایس ایم ظفر:اس حوالے سے میں نے کہا ناں کہ یہ ایک خطرناک طرزِ عمل ہے، جس سے ایک استثنٰی پیدا کیا جا رہا ہے۔ اگر اقوامِ متحدہ میں اس استثنی کو ہم نے روکنا ہے تو اس سے زیادہ اہم بات ہے کہ اپنے علاقوں میں رٹ قائم کریں یعنی اپنے گھر کو درست کریں۔
اسلام ٹائمز:برسوں قبل آپ ”تذکرے اور جائزے“ کے عنوان سے ایک کثیرالاشاعت روزنامے میں بڑے ہی خیال افروز اور حقائق کشا کالم لکھا کرتے تھے، اب آپ نے لکھنا ترک کر دیا ہے جو اپنے قارئین کو فکری رہنمائی سے محروم کر دینے کے مترادف ہے، ایسا کیوں ہُوا۔؟
ایس ایم ظفر:سوال کا بہت شکریہ!.... آپ نے جو بات کہی ہے مَیں بھی اس کو بڑا محسوس کر رہا ہوں اور مجھے بھی اچھا نہیں لگ رہا کہ میں کالم نہیں لکھ رہا، لیکن اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب مَیں نے سینیٹ کا الیکشن لڑا تو توجہ اس جانب چلی گئی، مصروفیات بڑھ گئیں اور موقع نہیں مل سکا۔ اب پھر ارادہ کر رہا ہوں۔ اس سے پہلے ایک کتاب زیر تصنیف ہے جب وہ مکمل ہو جائے تو اس کے بعد کالم لکھنے کا کام کروں گا۔
اسلام ٹائمز:ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف عالمی عدالت میں ایٹمی راز چرانے کے اِلزام میں جو مقدمہ دائر کِیا گیا تھا، آپ نے اس کا کامیاب دِفاع کِیا تھا، یہ کہانی ہم آپ کی زبانی سننا چاہتے ہیں۔؟ ایس ایم ظفر:اس کہانی کا مَیں نے اپنی ایک کتاب ”میرے مشہور مقدمے“ میں تفصیلاً ذکر کیا ہے، جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پوری داستان بیان کر دی ہے۔ آپ نے پوچھا ہے تو اسلام ٹائمز کے قارئین کی دلچسپی کے لئے عرض کئے دیتا ہوں۔ ڈاکٹر قدیر خان صاحب یہاں ہمارے کہوٹہ میں کام کر رہے تھے کہ اچانک ان کو ایک وارنٹ ہالینڈ کی طرف سے جاری ہوا کہ آپ نے ایک خط لکھ کر کوئی راز معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ خط برسوں پہلے کا تھا، جو انہوں نے اپنے کسی دوست کو لکھا تھا۔ اس میں جو بات کہی گئی تھی وہ نیوکلیئر رازوں میں گنی جاتی تھی کہ جو یہ راز دریافت کرتا ہے وہ بھی مجرم ہے۔ ان کو نوٹس یہاں آیا۔ ہماری حکومت نے اس کا جواب نہیں دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں یکطرفہ طور پر ان کی غیر حاضری میں چار سال کی سزا سنا دی گئی، جس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ یہ ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو دنیا کو تباہی کی جانب لے جائے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اب تک ہمیں مقدمے کے کوائف معلوم نہیں تھے۔ مَیں نے مقدمہ لڑنے کی حامی بھر لی، مگر اُس وقت کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے مجھے وکیل ماننے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ضیاءالحق صاحب کو ایک خط لکھ دیا کہ مَیں تو ایس ایم ظفر ہی کو وکیل کروں گا اور اگر آپ نہ مانے تو مَیں دوبئی جا کے بیٹھ جاﺅں گا، اپنا وکیل اپنے پیسوں سے کر لوں گا۔ اس طرح یہ معمہ حل ہوا۔ مقدمے کی بہت سی پیچیدگیاں تھیں اور سب سے بڑی پیچیدگی یہ تھی کہ ہم نے اپنے دفاع میں اپیل کرنا تھی کیونکہ ہمارے خلاف فیصلہ ہو چکا تھا، سزا کا۔ اپیل کے لئے مروّجہ قانون ساری دنیا میں یہی ہے کہ جس کو سزا ہو، وہی عدالت میں پیش ہو کر اپیل داخل کرے، اس کے بغیر اپیل داخل نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر قدیر خان یہاں بڑے اہم معاملات میں مصروف تھے۔ اگر ہم ان کو وہاں لے جاتے تو وہ ان کو جیل میں ڈال دیتے۔ اس کا حل نکالنا بہت مشکل کام تھا لیکن ہمیں اس کا حل مل گیا۔ وہ یہ کہ روم کنونشن کے مطابق اگر کسی ملزم کو سزا ہو گئی ہو اور عدالت میں پیش ہونے میں کوئی ایسی رکاوٹ ہو کہ جتنی اسے سزا ہوئی ہے اس سے بڑھ کر اسے نقصان کا احتمال ہو تو پھر اس صورت میں اس کی اپیل اس کی غیر حاضری میں سن لینی چاہیے۔ ڈاکٹر قدیر خان کو جس ملازمت میں یہاں رکھا گیا تھا وہ Essential services کہلاتی ہیں۔ ان سروسز کا ایک قانون ہے کہ ان سروسز پر تعینات کوئی شخص ملک چھوڑ کر باہر چلا جائے تو اسے سات سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ تو اس طرح ہماری اپیل سنی گئی اور ہمیں کامیابی حاصل ہوئی۔
اسلام ٹائمز:جناب بھٹو کے عدالتی قتل کو موجودہ سپریم کورٹ کے روبرو رکھا گیا ہے، اس ضمن میں آپکی رائے کیا ہے اور نتائج کیا ہوں گے۔؟
ایس ایم ظفر:مجھے عدالت نے بطور معاون بلایا ہے اور میں نے اپنی رائے مفصل لکھ کر دی ہے۔ جس میں، میں نے کہا ہے کہ بلاشک و شبہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں تعصب موجود تھا لیکن اسکا راستہ درست کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے پاس جانے کی بجائے ایک علیحدہ قانون بنانا چاہیے۔ میں نے دنیا کی بہت ساری مثالیں دی ہیں۔ مثلاً یو کے، ناروے، اسٹریلیا اور کینیڈا کی پارلیمنٹس نے Mis-carriage of justice یعنی عدالت سے ناانصافی ہو جائے اور بہت عرصہ گزر جائے اور معلوم ہو کہ ناانصافی ہو گئی ہے تو مقدمے کو ازسر نو دیکھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کا قانون بنائیں تاکہ نہ صرف ذوالفقار علی بھٹو ہی کو فائدہ پہنچے بلکہ دوسرے لوگ بھی اس قانون سے مستفید ہو سکیں۔
اسلام ٹائمز:امریکی مجرم ریمنڈ ڈیوس کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر چھوڑ دینا، کیا ہماری قومی توہین نہ تھی، اس کے پس پردہ کس کس کا کردار تھا جبکہ عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے 87 سال سزائے قید سنا دی، جس پر عمل بھی کیا جا رہا ہے۔؟
ایس ایم ظفر:عافیہ صدیقی کے لئے بھی میں نے بہت کوشش کی تھی۔ میں نے ان سے ملاقات بھی کی جا کر۔ عافیہ صدیقی کے معاملے میں بدقسمتی سے ایک مقدمہ انہوں نے اپنی جیوری کے سامنے پیش کر دیا تھا اور جیوری بھی وہ جو سفید لوگوں پر مشتمل تھی اور آپکو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ امریکی اپنے فوجیوں کی تذلیل نہیں کرتے، چنانچہ بطور گواہ اس میں سارے فوجی تھے۔ انہوں نے عافیہ کے ساتھ زیادتی کی اور اپنے فوجی گواہان کا احترام کیا اور عافیہ کو سزاد ے دی۔ یہ تو امریکہ نے کیا، جبکہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں ہم ان الجھنوں میں پڑے رہے کہ وہ Diplomat ہے یا نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی بدقسمتی کہ ہمارے ملک کی دو بڑی حکومتیں صوبہ پنجاب اور وفاق They were not on the same page ایک جس نے گرفتار کرنا ہے اور دوسرا جس نے اسکی Immunity کا فیصلہ کرنا ہے، ایک طرح سے نہ سوچیں تو نتیجہ وہی ہوتا ہے، جو ریمنڈ ڈیوس کا ہوا ہے۔ آپ اسے غیرت کا نقصان کہیں یا اپنے ملک کی بدانتظامی کا ایک مظہر، کہیں دونوں باتیں درست ہوں گی